ابنا: پيپلز پارٹي، نيشنل عوامي ليگ، متحدہ قومي موومنٹ اور جماعت اسلامي کے کارکنوں نے مشترکہ طور پر امن مارچ نکالا جس کا اہتمام سندھ کي صوبائي حکومت نے کيا تھا ـ امن مارچ ميں اہم سياسي جماعتوں کي شرکت کي قدرداني کرتے ہوئے وزير اعظم سيد يوسف رضا گيلاني نے کہا ہے کہ کراچي ميں امن قائم کرنے کے لئے يہ بہت اہم اقدام ہےـ ليکن کراچي ميں سياسي جماعتوں کے امن مارچ کے باوجود تشدد کا سلسلہ جاري ہے -
پاکستاني ذرائع کے مطابق اتوار کو کراچي ميں فائرنگ اور تشدد کے مختلف واقعات ميں کم سے کم چار افراد مارے گئے جبکہ سنيچر کو تشدد ميں تيرہ افراد ہلاک ہوئے تھے - ايک مہينے کے دوران کراچي ميں بد امني کے واقعات ميں ايک سو تيس سے زائد افراد مارے جا چـکے ہيں - کراچي ميں انيس سو نوے کے عشرے سے تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد تصادم ديکھنے ميں آتا رہا ہےـ حاليہ برسوں ميں اس شہر ميں سياسي اور فرقہ وارانہ جھڑپيں ہوئيںـ سن دو ہزار دس ميں کراچي کے تشدد کےواقعات ميں ايک سو پچپن افراد مارے گئے تھےـ
............
/169